سیکوریٹی فورسزکی کاروائی میں مزید ہلاکت پرعمرعبداللہ نے بی جے پی اورپی ڈی پی کونشانہ پرلیا
سرینگر6اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے وادی میں کشیدہ حالات پر وزیر اعظم نریندر مودی کی’’خاموشی‘‘کولے کرسوال اٹھایا ہے اور اسے ’’دل توڑنے والی اور تشویشناک ‘‘قرار دیا ہے۔عمر نے کل دیر رات ٹوئٹرپرلکھا’’دل توڑنے والی اورتشویشناک۔مرکز(معزز وزیر اعظم پڑھیں)یہاں بحران کو لے کر کب جاگیں گے؟‘‘وہ کل پرتشدد مظاہروں کے بعدسیکورٹی فورسز کی کارروائی میں تین افراد کے مارے جانے پر رائے دے رہے تھے۔اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے ایگزیکٹوصدر نے وادی میں بہتری سے متعلق مرکز کے دعوے کو لے کر کل اس کونشانہ پرلیاتھا۔عمر نے لکھاکہ ایک اورافسوسناک موت، آج بے شمار لوگ زخمی ہوئے اور مرکز معزز سپریم کورٹ کو بتاتا ہے کہ ’’چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔واہ‘‘انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ’’ صرف حکمران اتحاد شریک پی ڈی پی اور بی جے پی اس رخ سے متفق ہے۔عمر نے کہاکہ سچ میں؟۔ یہ کس حد کا تصور ہے؟۔ میں بی جے پی،پی ڈی پی کو چھوڑ کر وادی میں کسی ایسے شخص نے نہیں ملاہوں جواس بات سے متفق ہو۔مرکز نے کل سپریم کورٹ کو بتایا کہ کشمیر وادی میں آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے دہشت گرد برہان وانی کے مارے جانے کے بعد تشدد بھڑکنے کے بعد سے قانون نظام میں کافی بہتری آئی ہے۔اس نے کہا کہ نوجولائی کو ہوئے 201پرتشدد مظاہروں کی تعداد تین اگست کو کم ہوکر 11ہو گئی۔وادی میں کل تین لوگوں کی موت ہونے کے ساتھ ہی تشدد میں اب تک مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 54ہو گئی ہے۔